بیل گری

 

بیلگری

بیل گری

پہچان:

بیل گری جسے عام طور پر بیل پتھر بھی کہا جاتا ہے، ایک بڑے سائز کا پھل ہے جس کا بیرونی خول بہت سخت اور لکڑی کی طرح ہوتا ہے۔ پکا ہوا پھل اندر سے سرخی مائل زرد، خوشبودار اور شیریں گودے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے اندر بیج بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس کے درخت تقریباً 50 فٹ تک اونچے ہو سکتے ہیں جن کی چھال کھردری اور کانٹے دار ہوتی ہے۔ اس کے پتے مرکب ہوتے ہیں اور پھول چھوٹے سفید رنگ کے ہوتے ہیں جن میں شہد کی مانند خوشبو آتی ہے۔

Murabba

مختلف نام:

بیل گری کو مختلف علاقوں اور زبانوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے:

  • اردو: بیل پتھر، بیل گری
  • انگریزی: Bael Fruit, Wood Apple, Stone Apple
  • پنجابی: بل
  • سندھی: کاٹھوری
  • بنگلہ اور سنسکرت: بلوا
  • سائنسی نام:  Aegle marmelos (اگرچہ بعض ذرائع کو بھی لکڑ سیب یعنی وڈ ایپل کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔ جس کا پھل بیل گری سے مشابہہ ہوتا ہے۔

مقام پیدائش:

بیل گری کا آبائی وطن برصغیر پاک و ہند ہے، خاص طور پر بھارت۔ تاہم، یہ اب پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں بھی قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔

فوائد:

بیل گری اپنے متعدد طبی فوائد کے لیے جانا جاتا ہے:

  • معدہ اور آنتوں کے لیے مفید: یہ معدے اور جگر پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک بحال کرتا ہے۔ پیچش اور اسہال میں اس کا گودا فائدہ مند ہے۔
  • بخار کے لیے: بیل کے پتوں کا رس شہد یا پانی میں ملا کر پینے سے گرمی یا سردی کے بخار میں افاقہ ہوتا ہے۔
  • خون صاف کرنے والا: خیال کیا جاتا ہے کہ یہ خون کو صاف کرتا ہے۔
  • جوڑوں کے درد میں افاقہ: بعض روایات کے مطابق یہ جوڑوں کے درد میں بھی مفید ہے۔
  • دمہ کے علاج میں مددگار: بیل گری کا روغن دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند بتایا جاتا ہے۔ شدید نزلہ میں اسے سر پر لگانے سے ناک اور کان بند ہونے میں افاقہ ہو سکتا ہے۔
  • سوزش کم کرتا ہے: یہ جسم پر ہونے والی سوزش کو دور کرنے میں مددگار ہے۔
  • السر سے بچاؤ: اس میں عمل تکسید کو روکنے کی خصوصیات موجود ہیں جو گیسٹرک السر کو روکنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ یہ معدے میں غیر معمولی تیزابیت کو بننے سے روکتا ہے۔
  • دل کی دھڑکن اور نوبتی بخار میں افاقہ: بیل گری کی جڑ کی چھال سے تیار کردہ جوشاندہ دل کی دھڑکن کی تیزی اور نوبتی بخار میں فائدہ مند ہے۔
  • جگر اور معدے کو طاقت دیتا ہے: پکا ہوا گودا جگر اور معدے کو قوت بخشتا ہے۔
  • جلد کے لیے مفید: بیل گری کے پتوں کا جوس چہرے کے کیل مہاسوں کے خاتمے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
  • کولیسٹرول کی سطح برقرار رکھنا: طبی ماہرین کے مطابق اس کا باقاعدہ استعمال خون میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

نقصانات:

عام طور پر بیل گری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے جب اسے معتدل مقدار میں استعمال کیا جائے۔ تاہم، کچھ ممکنہ نقصانات یا احتیاطی تدابیر یہ ہیں:

  • قبض: بعض اوقات زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے قبض ہو سکتا ہے۔
  • حمل اور دودھ پلانے والی خواتین: ان حالات میں اس کے استعمال کے حوالے سے طبی مشورہ ضروری ہے۔
  • انفرادی حساسیت: کچھ لوگوں کو اس سے الرجی ہو سکتی ہے۔

استعمال کے طریقہ جات:

بیل گری کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے:

  • پھل کے طور پر: پکے ہوئے پھل کا گودا براہ راست کھایا جا سکتا ہے۔
  • خشک بیل گری: اس کے مغز کے چھلکے سکھا کر استعمال کیے جاتے ہیں۔ خشک بیل گری کو پانی میں بھگو کر اس کا شربت بنایا جا سکتا ہے۔
  • مربہ: اس کا مزیدار مربہ بھی بنایا جاتا ہے۔
  • رس: بیل کے پتوں کا رس نکالا جا سکتا ہے جو طبی فوائد رکھتا ہے۔
  • روغن: بیل گری کا روغن بھی بعض طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  • جوشاندہ: اس کی جڑ کی چھال سے جوشاندہ تیار کیا جاتا ہے۔

اس سے بننے والے مرکبات کے نام:

اگرچہ بازار میں بیل گری کے نام سے مخصوص فارماسیوٹیکل مرکبات عام نہیں ہیں، لیکن یہ روایتی ادویات میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مختلف گھریلو ٹوٹکے اور مشروبات بنائے جاتے ہیں، جیسے:

  • بیل گری کا شربت: خشک بیل گری کو بھگو کر اور چھان کر بنایا جاتا ہے۔
  • بیل کے پتوں کا رس: شہد یا پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
  • مربہ بیل گری

بیل گری سے بننے والی مختلف چیزوں اور ان کے استعمال کے طریقوں کی تفصیل درج ذیل ہے

بیلگری

1. بیل گری کا شربت

بنانے کا طریقہ:

1.    ایک پکا ہوا بیل گری کا پھل توڑ کر اس کا گودا نکال لیں۔

2.    گودے سے بیج اور ریشے الگ کر لیں۔

3.    گودے کو تھوڑے سے پانی میں اچھی طرح مَیش (mash) کر لیں۔

4.    مزید ٹھنڈا پانی شامل کریں اور مکس کریں۔

5.    مشروب کو چھلنی سے چھان لیں۔

6.    حسب ذائقہ چینی یا شہد شامل کر کے گھول لیں۔

7.    برف ڈال کر ٹھنڈا سرو کریں۔

استعمال کا طریقہ:

  • گرمیوں میں یہ ایک بہترین اور فرحت بخش مشروب ہے۔
  • معدے کی گرمی اور تیزابیت کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

2. بیل گری کا قہوہ/چائے

اگرچہ عام طور پر بیل گری سے روایتی قہوہ یا چائے نہیں بنتی ہے۔ لیکن اس کے پتوں کو ابال کر ایک ہلکی چائے بنائی جا سکتی ہے۔

بنانے کا طریقہ:

1.    تازہ یا خشک بیل گری کے چند پتے لیں۔

2.    ایک کپ پانی میں ڈال کر ابالیں۔

3.    5-7 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔

4.    چھان کر پی لیں۔ حسب ذائقہ شہد ملا سکتے ہیں۔

استعمال کا طریقہ:

  • یہ قہوہ ہاضمے کے لیے ہلکا اور مفید ہو سکتا ہے۔

3. بیل گری کا مربہ

بنانے کا طریقہ:

1.    کچے یا نیم پکے بیل گری کو چھیل کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ بیج نکال دیں۔

2.    ان ٹکڑوں کو چند گھنٹے پانی میں بھگو دیں۔

3.    پانی نتھار کر بیل گری کے ٹکڑوں کو چینی کی چاشنی میں ڈالیں۔

4.    ہلکی آنچ پر پکائیں جب تک کہ ٹکڑے نرم نہ ہو جائیں اور چاشنی گاڑھی نہ ہو جائے۔

5.    الائچی پاؤڈر یا کیوڑہ ایسنس خوشبو کے لیے شامل کر سکتے ہیں۔

استعمال کا طریقہ:

  • یہ ایک میٹھا اور لذیذ ٹریٹ ہے جسے ناشتے میں یا کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔
  • خیال کیا جاتا ہے کہ یہ معدے کے لیے بھی مفید ہے۔

4. بیل گری کا معجون

معجون ایک نیم ٹھوس شیریں مرکب ہوتا ہے جو مختلف جڑی بوٹیوں اور پھلوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ بیل گری کا معجون بنانے کے لیے:

بنانے کا طریقہ:

1.    بیل گری کا گودا نکال کر پیس لیں۔

2.    اسے شہد یا چینی کی چاشنی میں ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔

3.    دیگر طبی جڑی بوٹیاں (اگر استعمال کر رہے ہوں) کا سفوف بھی شامل کر سکتے ہیں۔

4.    گاڑھا ہونے پر اتار لیں۔

استعمال کا طریقہ:

  • معجون کو طبی فوائد کے لیے مخصوص مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال کے لیے کسی مستند طبیب سے مشورہ کریں۔

5. بیل گری کا سفوف (پاؤڈر)

بنانے کا طریقہ:

1.    بیل گری کے گودے کو سکھا لیں۔

2.    جب یہ اچھی طرح خشک ہو جائے تو اسے پیس کر باریک پاؤڈر بنا لیں۔

استعمال کا طریقہ:

  • اس سفوف کو پانی یا شہد کے ساتھ ملا کر کھایا جا سکتا ہے۔
  • یہ ہاضمے کی بہتری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔


اگر آپ کسی خاص طبی حالت کے لیے بیل گری استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیشہ طبی پیشہ ور سے مشورہ کرنا بہتر

ہے۔ 

شنگرف ہربل ایکس دواخانہ کہروڑ پکا 

بیل گری میں پائے جانے والے اجزاء کی تفصیل کے لئے اس پر کلک کریں 

 

Post a Comment

1 Comments

  1. MashaAllah bahut he tafseely malomat hain.

    ReplyDelete

Thanks for Visit