تریاق (Tiryaq) طب یونانی حصہ چہارم

 تریاق   (Tiryaq)


تریاق طب یونانی اور قدیم طبی نظاموں میں استعمال ہونے والی ایک بہت اہم اور مشہور مرکب دوا ہے۔ یہ ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "زہر کا توڑ" یا "زہر مار"۔ تاریخی طور پر، تریاق کو ہر قسم کے زہروں سانپ کے کاٹنے کیڑے مکوڑوں کے ڈنک اور مختلف بیماریوں کے علاج 
کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تریاق کا مطلب توڑ ہے ۔



تریاق کی تاریخ اور اہمیت:

تریاق کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ قدیم یونان۔ روم۔ فارس اور ہندوستان کے طبی نظاموں میں گہرا تعلق رکھتی ہے۔ مشہور یونانی طبیب گیلن (Galen) نے بھی تریاق کی تیاری اور استعمال پر بہت کام کیا۔ اور ان کے نسخے کئی صدیوں تک رائج رہے۔ قرون وسطیٰ کے اسلامی دور میں بھی مسلمان اطباء نے تریاق کی تحقیق اور اسے مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ شاہی درباروں اور امراء کے پاس ایک قیمتی دوا کے طور پر موجود ہوتا تھا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال خاص طور پر زہر خوانی کے وقت استعمال کیا جا سکے۔

تریاق کے اجزاء اور اقسام:

تریاق کوئی ایک سادہ دوا نہیں بلکہ یہ کئی جڑی بوٹیوں، معدنیات اور حیوانی اجزاء کا ایک پیچیدہ مرکب ہوتا ہے۔ اس کے اجزاء کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہے۔ اور ہر تریاق کا نسخہ اس کے بنانے والے طبیب پر منحصر ہوتا تھا۔ اس کے کچھ عام اجزاء میں شامل ہیں

افیون (Opium): درد کم کرنے اور پرسکون کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے۔

زعفران (Saffron): مختلف امراض میں مفید۔

مصطگی (Mastic): ہاضمے اور دیگر فوائد کے لیے۔

جند بیدستر (Castoreum): اعصابی امراض میں استعمال ہوتا تھا۔

مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں، مصالحے اور شہد۔

تریاق کی کئی اقسام مشہور ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

تریاق فاروق (Tiryaq Farooq): یہ سب سے مشہور اور جامع تریاق سمجھا جاتا ہے اور گیلن سے منسوب ہے۔

تریاق اربعہ (Tiryaq Arbaa): چار اجزاء پر مشتمل ایک سادہ تریاق۔

تریاق افیونی (Tiryaq Afyooni): افیون کی زیادہ مقدار والا تریاق، جو خاص طور پر درد اور بے خوابی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

تریاق کا استعمال (جدید نقطہ نظر سے)

طب یونانی میں تریاق کو مختلف حالات میں استعمال کیا جاتا تھا جن میں۔

زہروں کا علاج: سانپ کے کاٹنے بچھو کے ڈنک اور دیگر زہریلے اثرات کو ختم کرنے کے لیے۔

وبائی امراض: طاعون اور دیگر وبائی بیماریوں سے بچاؤ اور علاج کے لیے۔

اعصابی امراض: فالج و لقوہ اور رعشہ جیسے امراض میں۔

معدے اور ہاضمے کے مسائل: بدہضمی۔ پیٹ درد اور اسہال میں۔

قوت مدافعت بڑھانے کے لیے۔

اہم نوٹ: جدید طبی سائنس کے نقطہ نظر سے تریاق کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر اس میں افیون جیسے اجزاء کی موجودگی کی وجہ سے۔ افیون ایک نشہ آور مادہ ہے اور اس کا بے جا یا غلط استعمال صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ آج کل تریاق جیسی قدیم ادویات کو طبی نگرانی کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اور کسی بھی بیماری کے لیے جدید سائنسی بنیادوں پر ثابت شدہ علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔ کسی بھی تریاق کا استعمال حکیم یا طبیب سے مشورہ ضروری ہے ۔ 

Post a Comment

0 Comments