اطریفل Atriphal (طب یونانی حصہ سوم )

ایک تعارف

اطریفل ایک قدیم یونانی اور یونانی طبی اصطلاح ہے جو مختلف قسم کی ہربل فارمولیشنز کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ لفظ عام طور پر تین پھلوں کے مجموعے سے اخذ کیا جاتا ہے۔ یعنی آملہ (Emblica officinalis) ۔ بہیڑہ (Terminalia bellirica) اور ہرڑ (Terminalia chebula)۔ ان تینوں پھلوں کو آیورویدک اور یونانی طب میں تری پھلہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کا مطلب "تین پھل" ہے۔



اطریفل کی تیاری میں ان تینوں پھلوں کے خشک حصوں کو پیس کر ایک خاص تناسب سے ملایا جاتا ہے، اور پھر اس میں مختلف دیگر جڑی بوٹیاں، مصالحے، اور بعض اوقات شہد یا گڑ شامل کیے جاتے ہیں تاکہ اس کی تاثیر اور ذائقہ بہتر بنایا جا سکے۔

اطریفل کے فوائد:

اطریفل کو صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

  • قبض کشا: اطریفل کا سب سے مشہور استعمال قبض کشا کے طور پر ہے۔ یہ آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور باقاعدہ اخراج میں مدد کرتا ہے۔
  • نظام ہاضمہ کی بہتری: یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے۔ پیٹ پھولنے، بدہضمی، اور گیس جیسے مسائل کو کم کرتا ہے۔
  • جسم کی صفائی (ڈیٹوکس): اطریفل کو جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔جس سے مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔
  • آنکھوں کی صحت: روایتی طور پر اطریفل کو آنکھوں کی بینائی اور مجموعی صحت کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے۔
  • بالوں کی صحت: یہ بالوں کی نشوونما اور صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی  ہے۔
  • سوزش کم کرنے والی خصوصیات: اس میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

 

اطریفل کا نام کس نے ایجاد کیا؟

اطریفل کا موجد یونانی طبیب انڈروماخس (Andromachus) کو مانا جاتا ہے۔

اطریفل کا نام اس کے اجزائے ترکیبی سے اخذ کیا گیا ہے۔ چونکہ اس مرکب میں ہلیلہ (ہرڑ)، بلیلہ (بہیڑہ) اور آملہ جزو لازم کے طور پر شامل ہیں، اس لیے اس کو "اطریفل" کا نام دیا گیا۔ بعض طبی محققین کا ماننا ہے کہ "اطریفل" ہندی زبان کے لفظ "تری پھلہ" کا معرّب ہے، جس کا مطلب "تین پھل" ہے۔ یونانی اور لاطینی زبان میں "طری" یا "Tri" کا مطلب بھی "تین" ہے۔



اطریفل کو دوسری زبانوں میں کیا کہتے ہیں؟

اطریفل کو انگریزی میں عام طور پر Triphala کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے اطریفل ہی کہتے ہیں، اور کبھی کبھی "ترپھلا" بھی استعمال ہوتا ہے جو ہندی سے آیا ہے۔ ہندی میں اسے (تری پھلا) کہتے ہیں۔

اطریفل  کی تاریخ اختتام :

اطریفل ایک ہربل فارمولیشن ہے۔اور اس کی افادیت کا انحصار اس کے اجزاء کے معیار تیاری کے طریقے اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر  اگر اطریفل کو صحیح طریقے سے تیار کیا گیا ہو اور اسے خشک ٹھنڈی اور ہوا بند جگہ پر محفوظ کیا جائے۔ تو یہ ایک سے دو سال تک اپنی افادیت برقرار رکھ سکتی ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جڑی بوٹیوں سے بنی ادویات وقت کے ساتھ اپنی تاثیر کھوتی جاتی ہیں۔ لیکن اطریفل کے اجزاء (آملہ، بہیڑہ، ہرڑ) اپنے قدرتی خواص کی وجہ سے کافی پائیدار ہونے کی وجہ سے لمبے عرصہ تک چلتے  ہیں۔

اہم نکات:

  • تازگی: جتنی تازہ اطریفل ہوگی اس کے فوائد اتنے ہی بہتر ہوں گے۔
  • تیاری: صنعتی طور پر تیار شدہ اطریفل کی مدت استعمال (expiry date) عام طور پر پیکنگ پر درج ہوتی ہے۔ جس کی پیروی کرنی چاہیے۔
  • ذخیرہ: روشنی  حرارت اور نمی سے بچا کر رکھنا اس کی مدت کو بڑھا سکتا ہے۔
  • علامات: اگر اطریفل میں نمی  پھپھوندی  یا بو میں تبدیلی محسوس ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اطریفل ایک قدیم اور مفید ہربل فارمولیشن ہے ۔جس کے صحت بخش فوائد کافی عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔

 اگر اسے مناسب طریقے سے تیار اور محفوظ کیا جائے۔

حکیم غلام یٰسین آرائیں کہروڑ پکا ۔  شنگترف ہر بل ایکس داوا خانہ

 

 

Post a Comment

1 Comments

Thanks for Visit